Type Here to Get Search Results !

Qatar Attack: Trump's $400M Betrayal, Muslim World Lesson

وقت اور عالمی طاقتوں کی حقیقت: قطر اور مسلم دنیا کے لیے ایک سبق


Qatar Attack: Trump's $400M Betrayal, Muslim World Lesson

وقت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ غلاموں کی اپنی کوئی آزادی یا عزت نہیں ہوتی۔ مسلم دنیا جتنی بھی کوشش کر لے، لیکن اگر وہ اپنی آنکھیں بند رکھے گی اور اس حقیقت کو نہیں مانے گی کہ وہ کمزور ہیں اور انہیں مل کر اکٹھا ہونا ہوگا، تو تب تک اس کا انجام ذلت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب خلیجی ممالک کا دورہ کیا تھا تو اسی دوران قطر کے امیر نے انہیں اب تک کا سب سے مہنگا تحفہ دیا تھا – ایک لگژری بوئنگ جہاز 7478 جس کی مالیت 400 ملین ڈالر تھی۔ اس کا مقصد دوستی کو مزید گہرا کرنا تھا تاکہ قطر پر جب بھی مشکل وقت آئے تو امریکہ ان کی سائیڈ لے۔ لیکن جواب میں، ٹرمپ صاحب نے یہ دوستی ایسی نبھائی ہے کہ تاریخ کے اندر پہلی بار دوحہ (یعنی قطر کے دارالحکومت) کے اندر، جہاں حماس کے لیڈر جمع ہو کر اسرائیل کی طرف سے دی جانے والی سیز فائر کی شرطوں پر نظر ثانی کر رہے تھے اور مشورے چل رہے تھے، اسی دوران ٹرمپ کی رضامندی سے اسرائیل نے اپنے F35 جیٹس کی مدد سے 2000 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرکے اسی بلڈنگ کو نشانہ بنایا جہاں یہ سب لوگ موجود تھے۔

اس اچانک اور غیر متوقع حملے کے بعد، قطر کے مطابق اس کی تمام لیڈرشپ یعنی حماس کی لیڈرشپ بھی محفوظ ہے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن اگر اسرائیل کی مانی جائے تو اس کے مطابق تمام حماس لیڈر جو کہ یہاں پر موجود تھے، اس بلڈنگ کے اندر تھے، ان سب کو ختم کر دیا گیا ہے۔ چونکہ دونوں طرف سے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیے گئے، لہٰذا ہم تصدیقی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون جھوٹے۔ قطر اس اچانک حملے کے بعد صدمے میں ہے اور اسے یقین نہیں آ رہا کہ وہ امریکہ جس کو راضی کرنے کے لیے اس نے اپنے تمام دفاعی نظام اسی سے خریدے، اسی کی شرطوں پر ہمیشہ اس کا ساتھ دیا، وہ امریکہ اس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیسے کر سکتا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی اس پر اعتماد نہیں کرے گا۔ دوحہ میں کل 12 علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی جس میں لکھا کہ یہ حملہ حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا اور میں نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ یہ ان کے پاس آخری موقع ہے۔ اس بیان کے بعد حماس کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا، لیکن قطر نے اس کا بہت ہی سخت ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ مناسب موقع ملتے ہی وہ اس کا جواب دینے کا حق بھی رکھتا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قطر ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ قطر ایران نہیں ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ قطر بھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن پر اسرائیل حملہ کر چکا ہے، یعنی شام، عراق، ایران، لیبیا، یمن اور اب قطر کی باری ہے۔ تصور کریں کہ اس بندے (ٹرمپ) نے سفارتی طور پر صرف اسرائیل کی خاطر اپنے ملک کو تباہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اسی بندے کی بیوقوفی کی وجہ سے پچھلے کچھ عرصے کے اندر انڈیا، چین، روس، شمالی کوریا کا بلاک مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اور عنقریب آپ دیکھیں گے کہ اب قطر بھی اسی بلاک کے اندر شامل ہونے والا ہے۔ اور اگر قطر ایسا نہیں کرتا تو اس کے پاس دوسرا آپشن یہ ہے کہ ان کے آگے جھک جائے جیسا کہ اردن جھکا ہوا ہے۔ اب یہ قطر کے لیے "کرو یا مرو" کی صورتحال ہے کیونکہ اسے اپنا مستقبل ابھی سے فیصلہ کرنا ہوگا۔

یہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑی خبر ہے، خاص طور پر مسلم دنیا کے لیے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ یہ مسلم دنیا اپنی آنکھیں کھولے اور سمجھ جائے کہ اس ریاست (اسرائیل) کا مقصد صرف امن قائم کرنا نہیں بلکہ جس کو وہ امن کہتا ہے اس کا مطلب دراصل ہوتا ہے کہ پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنا، جس کو وہ "گریٹر اسرائیل" کہے کر پوری دنیا کو بتا بھی چکا ہے۔ اور اگر مسلمانوں کو ان کا راستہ روکنا ہے تو اکٹھے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

اس حملے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف تو غزہ کے اندر جو جنگ بندی کا امن کا معاہدہ ہونے والا تھا وہ ختم ہو جائے گا۔ اور اس کے علاوہ اسرائیل کو مزید حملہ کرنے کی مزید چھوٹ مل جائے گی کیونکہ وہ قطر ہی تھا جو کہ اس امن معاہدے کے اندر حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کام کر رہا تھا۔ اور دوسرا قطر کی ساکھ پوری دنیا کے اندر ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر سامنے آئے گی۔ وہ ملک جہاں غیر ملکی سیاح جانا پسند کرتے تھے اور اس کو اپنا پسندیدہ ملک مانا کرتے تھے۔ یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے جو کہ بڑے بڑے فیفا جیسے ایونٹ بھی ہوسٹ کر چکا ہے۔ اور اس کی ایئر لائن تو دنیا کی محفوظ ترین ایئر لائن ہے۔ لوگ اس ملک کی سیکورٹی اور سیفٹی پر بھروسہ کرتے تھے لیکن بہت جلدی یہ تاثر بدلنے والی ہے کیونکہ یہاں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اور گھومنے آنے سے پہلے لوگ 100 بار سوچیں گے۔ کاش ایران اسرائیل جنگ کے دوران قطر نے ایران کا ساتھ دیا ہوتا تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ کیونکہ اب قطر اسرائیل کے لیے دوبارہ کبھی بھی آسان نشانہ ہو سکتا ہے۔

اور اس سب کا قصوروار یا تو یہ امریکہ ہے جس نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اس کو اسلحہ اور مالی اور سفارتی ہر طرح کی مدد دے رہا ہے۔ دوسرا خود اسرائیل ہے اور تیسرا مسلم امت کی خاموشی۔ یہاں پر میں قطر کو اس معاملے کے اندر اس لیے الزام نہیں دے سکتا کیونکہ اس کے پاس اتنی فوجی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ براہ راست غزہ کے لیے کچھ کر سکے۔ ہاں سفارتی طور پر اس نے جنگ بندی کی پہلے بھی بہت کوشش کی ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ اس نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی دوست بن کر راضی کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ان کی غلط فہمی اب دور ہو چکی ہے۔

اس حملے نے بہت سارے سوالوں کو جنم دیا ہے جن کے جواب لوگ جاننا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوال یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قطر کو پہلے اس حملے کی اطلاع دے دی گئی تھی۔ اور اگر امریکہ سچ بول رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ قطر نے خود یہ سب کچھ ہونے دیا کیونکہ ان کے پاس دنیا کا جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم موجود ہے جو کہ حملے کے دوران ایکٹو نہیں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ ملٹری انٹیلی جنس کے یہ تمام لوگ ایک جگہ پر کس وقت اور کہاں پر موجود ہیں یہ اسرائیل تک کیسے پہنچی تو کیا اس کا مطلب کہ قطر کے اندر بھی غدار موجود ہیں جیسے ایران پر حملے کے دوران وہاں پر بھی موجود تھے۔

میرے خیال میں اس تمام معاملے کے اندر اصل قصوروار امریکہ اور سب سے بڑھ کر خود اسرائیل ہے۔ کیونکہ قطر کی غلطی اتنی ہے کہ وہ اندھے اعتماد کے اندر دھوکا کھا گیا۔ اور اس کو لگتا تھا کہ اس کا دشمن باظرف ہے اور وہ اس طرح سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پر یہاں پر قطر غلط تھا۔ قطر کی آبادی 3 ملین بھی نہیں ہے جس کے اندر 85 فیصد غیر ملکی ہیں۔ زیادہ تر لیبر ورکرز ہیں۔ قطر کے پاس اپنی ایڈوانس ایئر فورس موجود ہے اور اس کے علاوہ دوحہ کے اندر امریکہ کا سب سے بڑا ایئر بیس العلاالدید موجود ہے جہاں پر ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ جب امریکہ کسی ملک کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے تو کوئی دنیا کا ملک آج اتنا ایڈوانس نہیں ہے جو کہ براہ راست امریکہ کو دھمکی دے سکے۔ اور دوسری سب سے بڑی وجہ کہ یہ ایئر ڈیفنس سسٹم امریکہ کے کنٹرول کے اندر ہے اور تب تک ایکٹو نہیں ہو سکتے جب تک کہ امریکہ اجازت نہ دے دے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حملے کے دوران کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ جب ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے تو اسی ایئر ڈیفنس سسٹم نے اسرائیل تک پہنچنے سے پہلے اس کو قطر کے ایئر اسپیس کے اندر ہی تباہ کر دیا تھا۔

اب مختصر یہ ہے کہ اس حملے کے بعد قطر صرف اپنے سفارتی تعلقات امریکہ اور اسرائیل سے خراب کر سکتا ہے لیکن کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اگر وہ براہ راست امریکہ اور اسرائیل کو چیلنج کرے گا تو خود قطر کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے بعد ہوگا یہ کہ قطر کا وہ امیج جو کہ ایک ثالثی کے کردار کا تھا وہ دنیا سے ختم ہو جائے گا اور اس کے اثرات قطر کئی سالوں تک اپنے ملک کے ساتھ جڑا ہوا دیکھے گا۔ اور اسی لیے تو ہم کہتے ہیں کہ یا تو آپ کو حق کا ساتھ دینا چاہیے یا پھر باطل کا، بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور خاموشی کا مطلب اکثر لوگ کمزوری سمجھتے ہیں اور قطر نے بھی یہی غلطی کی۔ قطر نے مسلم دنیا کے ساتھ کوئی غداری نہیں کی، وہ تو غزہ کے اندر سیز فائر کی کوشش کر رہا تھا اور اسی لیے حماس لیڈرشپ کو بھی اپنے پاس بلایا تھا لیکن اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ اور اسی وجہ سے حماس کی قیادت اکثر دوحہ کے اندر آتی رہتی ہے۔

لیکن اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ قطر کو سبق سکھایا جائے تاکہ آئندہ وہ غزہ کے مزید قریب نہ ہو سکے، ایران کا ساتھی نہ بن سکے اور اس کے علاوہ اسرائیل کے کسی بھی طرح سے خلاف نہ جا سکے۔ اور دوسرا ان کا مقصد (ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے) کہ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کیا گیا کہ قطر ثالثی کے طور پر بیچ سے نکل جائے اور یہ دونوں ملک بنا کسی روک ٹوک کے غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں۔ اب فی الحال کی اپ ڈیٹ یہ ہے کہ قطر اس کو بین الاقوامی سطح پر اٹھا کر بہت ہی مضبوط پیغام دے رہا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لے گا لیکن کیسے اور کب یہ تو قطر پر منحصر کرتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ اس کے پاس دو ہی آپشن ہیں کہ یا تو چائنا بلاک کو جوائن کر لے یا پھر ان کے آگے سرینڈر کر دے۔ لیکن ایک بات تو ہے کہ قطر کو اس کے اندر الزام دینا مکمل انصاف نہیں ہے کیونکہ وہ فوجی طاقت کے اندر بہت کمزور ہے۔ پر اس حملے کے اندر ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر آپ حق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو طاقتور آپ کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرکے ایک دن اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔ باقی آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔

 اللہ حافظ۔


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad